پاکستان کے بارے میں اہل نظر شخصیات کے بشارتیں

03 November 2018

پاکستان کے حوالے سے بیشمار اہل نظر حضرات نے مختلف ادوار میں بشارتیں دی ہیں۔ قارئین  کی دلچسپی کے لیے یہاں چند ایک مشہور شخصیات کے اقوال کا خلاصہ بیان کیا جا رہا ہے۔

نعمت اللہ شاہ ولی

نعمت اللہ شاہ ولی  (548 ہجری بمطابق 1153 عیسوی) اپنے اشعار میں فرماتے ہیں’’ غرب (مغربی پاکستان)کے مسلمانوں پر ذات باری تعالیٰ کا فضل ظاہر ہو گااور اُن کے ہاتھ کام چلانے والے ظاہر ہوں گے۔ اِس کے بعد ہندوستان کے ملک میں ایک شورش ظاہر ہو گی۔مشرکانہ سرزمین پر فتنہ و فساد برپا  ہو گا۔ اِس خلفشار کے وقت بت پرست کلمہ گو مسلمانوں پراپنے ہندوانہ قہر و غضب کے ذریعے جابر ہوں گے۔ اپنی مدد کے لیے شمال مشرق کی طرف سے فتح حاصل کرنے کے لیے غائبانہ امداد آئےگی۔ جنگی ہتھیار اور جنگی کاروائی کا ماہر لشکرآئے گا۔ مسلمانوں کو زبردست اور بے حساب تقویت پہنچے گی۔ ترکی، عرب،   ایران والے امداد کے جذبے سے دیوانہ وار آئیں گے۔ پہاڑوں، بیابانوں اور صحراؤں سے اعراب بھی آئیں گے۔ آگ کا سیلاب ہر طرف سے رواں ہو گا۔ چترال، نانگا پربت، چین کے ساتھ گلگت کا علاقہ مل کرتبت کا علاقہ میدان جنگ بنے گا۔ ترکی، چین اور ایران والےاکٹھے ہو جائیں گے اور یہ سب پورے ہندوستان کو غازیانہ طور پر فتح کر لیں گے۔ یہ چیونٹیوں اور مکڑیوں کی طرح راتوں رات غلبہ حاصل کر لیں گے۔ میں قسم کھاتا ہوں حق تعالیٰ کی کہ مسلمان قوم فاتح ہوگی‘‘۔(ماخوذ : نعمت اللہ شاہ کی ۸۵۰ سالہ پیشنگوئی،نوبزادہ نیاز عدل خان)

عبد الطیف شاہ (بری امام)

ممتاز مفتی اپنی کتاب الکھ نگری (صفحہ نمبر760) میں لکھتے ہیں  ’’قدرت اللہ شہاب نے انھیں بتایا کہ وہ ہالینڈ میں اسلامی کتابوں کی دنیا بھر میں سب سے بڑی لائبریری میں مطالعہ کر رہے تھے کہ دفعتاً  اُن کی نظر سےایک قلمی مسودہ گزرا جس میں لکھا تھا کہ  حضرت عبدالطیف شاہ (بری امام )نے فرمایا کہ’’میری قبر کے ارد گرد ایک شہر تعمیر ہو گا،جس کا نام اسلام پر رکھا جائے گا اور جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز ہو گا‘‘۔

وہ ملفوظات قدرت اللہ شہاب وہاں سے لے آئے اور اب بھی پاکستان میں میسر ہیں۔ اب آپ دیکھیں اُن کی بات کا ایک حصہ پورا ہو گیا کہ اُن کی قبر کے ارد گرد شہر تعمیر ہوا۔ کراچی سے دارالخلافہ اسلام آباد پہنچا اور اُسکا نام اسلام پر رکھا گیا۔ پاکستان کے بارے میں بشارت تو 442 سال پہلے دے دی گئی تھی اور مشن بھی بتا دیا گیا کہ  یہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز ہو گا۔

قائد اعظم محمد علی جناح

علامہ شبیر احمد عثمانی نے قائد اعظم کی وفات کے بعد بتایا کہقائد اعظم نے انہیں ایک نشست میں بتایا تھا کہ جب وہ لندن میں مقیم تھے تو ایک خواب میں انہیں رسول اکرمﷺ کی زیارت ہوئی جس میں آپﷺ نے فرمایا کہ ”محمد علی واپس ہندوستان جاؤ اور وہاں مسلمانوں کی قیادت کرو“۔ قائد اعظم نے یہ خواب سنا کر مولانا شبیر احمد عثمانی کو تاکید فرمائی تھی کہ ’’یہ خواب میری زندگی میں کسی پر ظاہر مت کرنا،  میں یہ خواب دیکھنے کے فوراً بعد ہندوستان آگیا تھا‘‘۔

سید سرفراز شاہ

مشہور صحافی عبد القادر حسن  روزنامہ ایکسپرس کے 20 فروری 2014 کےکالم میں معروف روحانی شخصیت سید سرفراز شاہ صاحب کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ شاہ صاحب نے فرمایا۔

’’بھارت کے ساتھ ہماری ایک تباہ کن جنگ ہوگی  اور یہ پانی کے مسئلے پر ہوگی۔ کیونکہ ہمارے لیے دریاؤں کی ویرانی برداشت سے باہر ہے۔ اِس کے لیے جنگ جیسی تباہی بھی کم ہے۔ چناچہ ہم پانی واپس حاصل کرنے کے لیے بھارت کے ساتھ جنگ پہ مجبور ہوں گے اور اِس جنگ میں فتح ہماری ہوگی۔ کئی شہر تباہ ہوں گے، مگرجنگ کا نتیجہ ہمارے حق میں نکلے گا۔ اِس تباہ کن جنگ کے باوجود پاکستان باقی رہے گا۔ البتہ پاکستانیوں پر جنگ کی جو شدید ضرب لگے گی وہ انھیں بدل دے گی۔ وہ ایک نئی قوم بن کر نمودار ہوں گے اور اُن کا پاکستان حیرت انگیز ہوگا۔ ملک پر جتنی قیامتیں بھی ٹوٹیں گی وہ اپنی جگہ ،لیکن ملک کی بقا کو خطرہ نہیں ہے۔ یہ ملک باقی رہے گا اپنی حدود کے ساتھ‘‘۔

سید سرفراز شاہ صاحب اپنے لیکچرز پر مشتمل کتاب  ’فقیر رنگ‘  میں  فرماتے ہیں’’جس جنگ کا ذکر ہوتا رہا ہے،وہ یقیناًہو گی اور اِس میں پاکستان کی فتح یابی میں بھی کوئی شک نہیں ہے۔ یہاں اِسکی تفصیلات میں جانا شاید قرین مصلحت نہ ہو۔ یہاں اتنا ہی ذکر کافی ہے کہ ہم اِس جنگ میں انشاءاللہ بفضل خدا  سرخرو ہوں گے اور نتیجتاً پاکستان کو اسلامی دنیا میں لیڈر مان لیا جائے گا،  اور وہ دیگر تمام ممالک کی قیادت کرے گا‘‘۔


 

حضرت سید محمد ذوقی شاہ

صوفی بزرگ حضرت سید محمد ذوقی شاہ فرماتے ہیں ’’دنیا حضرت امام مہدی کی تشریف آوری تک امن و سکون نہیں دیکھے گی۔ اب ہمیں اِس سوال پر غور کرنا ہے کہ امن کی زندگی کے بجائے آخروی زندگی کیسے حاصل کی جائے؟ ہمیں مرنے سے پہلے کچھ اہم ضرور کرنا چاہیئے۔ آج جو کچھ کیا گیا ہے اِس کے اثرات سو سال بعد ظاہر ہوں گے‘‘۔

آپ سےسوال کیا گیا’’ حضور! پاکستان کا کیا بنے گا؟‘‘ حضرت ذوقی شاہ صاحب نے جواب دیتے ہوئے فرمایا ’’پاکستان منزل کا زینہ ہے۔ حقیقت میں پاکستان موجودہ حالت میں نہیں رہے گا بلکہ یہ پھیل کر انڈیا کو اپنے اندر شامل کر لے گا، یعنی تمام انڈیا ایک مسلمان ریاست بن جائے گا‘‘۔

پروفیسر باغ حسین کمال

عارف وقت پروفیسر باغ حسین اپنے خطبات پر مشتمل کتاب  ’خطبات کمال‘ (صفحہ نمبر 512)  میں فرماتے ہیں ’’پاکستان کا سیاسی، عسکری اور معاشی مستقبل انتہائی شاندار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کی سربلندی کے لیےپاکستان سے بہت اہم کام لینا ہے‘‘۔

صوفی برکت علی

 صوفی برکت علی اپنے ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں ’’ایک دیوانہ  ایک جنگل میں تنکے چن رہا تھا اور کہہ رہا تھا وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی’ہاں‘اور’ناں ‘ میں اقوام عالم کے فیصلے ہوا کریں گے‘‘۔

ممتاز مفتی اپنی کتاب الکھ نگری میں تحریر کرتے ہیں کہ ایک دن جمعہ کی نماز پڑھانے کے بعد صوفی صاحب نے فرمایا  ’’لوگو! جان لو ،ایک دن ایسا آنے والا ہے جب اقوام متحدہ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے پاکستان سے پوچھے گی ’کیا میں یہ قدم اٹھا لوں؟‘ اُس وقت ہم تو رخصت ہو چکے ہوں گے، اگر ایسا نہ ہوا تو آ کر ہماری قبر پر تھوکنا‘‘۔

اشفاق احمد

نامور ادیب اشفاق احمد پاکستان کے حوالے سے کہا کرتے تھے ’’پاکستان کی مثال صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی طرح ہے۔ جس طرح صالح علیہ السلام کی اونٹنی معجزے سے بنی تھی اور اللہ کی نشانی کے طور پر اُس کو رکھا گیا تھا اور جس نے بھی اُسکو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، وہ اللہ کے عذاب میں مبتلا ہوا۔ پاکستان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، جس نے بھی پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، اُسے ذلت کا سامنا کرنا پڑا‘‘۔(ہندو صیہونیت، صفحہ نمبر 107)

واصف علی واصف

صاحب نظر واصف علی واصف فرماتے ہیں ’’معاشرتی برائیوں کو دور کرنے کے لیے ایک آدمی آئے گا۔ وہ رشوت کو ختم کرے گا کیونکہ یہ اُسکی ڈیوٹی ہوگی اور وہ اِسی کام کے لیے آ رہا ہے۔ اُس کے پاس طاقت ہو گی اور اسلحہ بھی ہوگا اور اِسی طرح وہ رشوت بند کر دے گا۔ صرف تبلیغ سے رشوت بند نہیں ہوگی۔ جب وہ سختی کرے گا تو لوگ رشوت سے توبہ کر لیں گے۔ وہ جو حکم دے گا، ویسا ہونا شروع ہو جائے گا۔ پھر یہ قوم اسلام میں آئے گی۔ اب دوسرا وقت آنے والا ہے اور پھر تیز ہونے والا ہے۔پھر وہ جو کہے گا وہ کرائے گا۔ تھوڑے دنوں کی بات ہے۔ جب ایسا وقت آ گیا تو سب کے ہوش ٹھکانے لگ جائیں گے، مار پڑنی شروع ہو جائے گی۔ کیونکہ وہ جو کہے گا وہ ہوگا۔ ابھی تک جو کہا گیا وہ پورا نہیں ہوا کیونکہ ابھی اُس درجہ کے لوگ نہیں آئے۔ جلد ہی یہ اچھی خبر آئے گی کہ وہ کام کرنے والا آ گیا ہے اور وہ جو چاہے گا کرائے گا۔ ایسا حکم والا آ گیا تو سب رشوتیں اور برائیاں ٹھیک ہو جائیں گی‘‘۔

مخدوم علاؤالدین علی احمد صابر کلیری

حضرت مولانا محمد حسن صابری  کی تالیف 'حقیقت گلزار صابری' (مطبوعہ 1886) میں مخدوم علاؤالدین علی احمد صابر کلیری کی  یہ پیشنگوہی درج ہے۔’’حضرت امام مہدی علیہ السلام کا زمانہ چودہ سو (1400) ہجری کے قریب ہو گا‘‘۔اِس کتاب میں درج پیشنگوہی کی تصدیق ابوانیس صوفی محمد برکت علی اور دیگر اولیا کرام نے بھی کی ہے جو اِس کے مستند ہونے کی ضمانت ہے۔ اِس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’تمام ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت حضرت امام مہدی علیہ السلام کے دور حکومت میں ہو گی‘‘۔

عرفان الحق

صاحب نظرو حکمت اور دانشور  عرفان الحق (عرف بابا جی)  نےڈاکٹر اجمل نیازی کے پروگرام  (19 اگست 2011) میں گفتگو کرتےہوئے فرمایا ’’میں یہ بات لوگوں سے کہتا ہوں کہ میں بہت جلد یہ گمان کرتا ہوں کہ ظہور امام مہدی ہونے والا ہے۔ اور ہم یہ چاہ رہے ہیں کہ اُن سے پہلے (اُن کا ٹارگٹ اور مشن بھی یہی ہے کہ اُنھوں نے امت کو ایک پلیٹ فارم پہ اکٹھا کر کے لیڈر شپ مہیا کرنا ہے) جو ہم سے اُن کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے انھیں خوش آمدید کرنے کے لیے، وہ ہم کریں۔ میرے پاس اُن کے آنے کی  تاریخ  کی کوئی اطلاع نہیں مگر جو احادیث مبارکہ کا تسلسل ہے اُن کے آنے کے بارے میں کہ جو حالات ایسے ہو جائیں گے، وہ تواب نزدیک آ گئے ہیں۔ یعنی وہ نشانیاں جو احادیث میں ہیں، حدیث کی کتابوں کے آخر میں دور الفتن ہے، وہ یہ بتاتا ہے کہ وقت بہت نزدیک آ گیا ہے۔ تو اِس حوالے سے اُن کو (یعنی امام مہدی کی آمد کو) دس سال بھی ہو سکتے ہیں، دو بھی ہو سکتے ہیں، پانچ بھی ہو سکتے ہیں۔ اللہ کی اپنی حکمتیں  ہیں، مگر وقت کوئی اتنا زیادہ دور نہیں لگتا‘‘۔

مذکورہ بالا پروگرام میں ایک موقع پہ باباعرفان الحق صاحب سے سوال کیا گیا  کہ’’کیا پاکستان کا بھی غزوہ ہند میں کوئی کردار ہوگا؟‘‘ تو  بابا جی نے فرمایا کہ ’’پاکستان کے بننے کا کوئی مقصد ہی نہیں اگر اِس کا کردار غزوہ ہند میں نہ ہوتا۔ اِس کے معرض وجود میں آنے کا مقصد ہی غزوہ ہند ہے‘‘۔

اللہ قادر مطلق ہے۔ وہ جب چاہے جس طرح چاہے مذکورہ بالا بیان کردہ باتوں میں تبدیلی کر سکتا ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ اہل ایمان اللہ کے نُور سے دیکھتے ہیں مگر یہ منظر حتمی نہیں ہوتا۔ حتمیت کا اختیار قادرمطلق اللہ تعالیٰ کی ذات کے پاس ہے، جس کا کوئی شریک نہیں۔

Related Dream Videos

Tags: Qasim Qasim dreams


© 2021 - QasimDreams